جلیل عالی ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم

کب کوئی عشق ترےؐ عشق کا ہم پایہ ہوا
وہی جانیں کہ عطا جن کو یہ سرمایہ ہوا

تھک کے تھم جاتی ہے ہر موجِ زمانہ آخر
کہیں ٹھہرا نہ تریؐ راہ سے رَم آیا ہوا

خیر و انعام کا رستہ تراؐ ایک ایک عمل
حکمتِ تام کا دریا تراؐ فرمایا ہوا

ورد کرتی ہیں ترےؐ نام کا سانسیں دم دم
روح میں یوں تراؐ احساس ہے گہرایا ہوا

نہیں ممکن کہ شفاعت کی نگاہوں میں نہ ہو
دل کہ جو اپنی خطاؤں پہ ہو پچھتایا ہوا

جس سے راضی ہوا توُؐ وہ ہوا راضی اْس سے
خود خدا نے ہمیں نکتہ ہے یہ سمجھایا ہوا

تیرےؐ اک حرف سے وہ راہ پہ آ سکتا ہے
کوئی کتنا بھی ہو اِس دہر کا بھٹکایا ہوا

طائف و بدر و اُحد نے یہ گواہی دے دی
دل تراؐ تابشِ قرآں کا تھا چمکایا ہوا

عالیِ خستہ تن و جاں پہ کرم ہے تیراؐ
اپنی دہلیز پہ تُوؐ نے ہے جو بٹھلایا ہوا

Related posts

Leave a Comment